مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے مختلف صوبوں میں حالیہ دنوں میں معاشی مشکلات کے باعث عوامی احتجاجی مظاہرے اور اجتماعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ یہ مظاہرے محدود اور مقامی نوعیت کے ہیں، جبکہ قومی سطح پر روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔ حکومتی ادارے، عوامی خدمات، انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام بلا تعطل کام کررہے ہیں۔
ایرانی حکام نے عوامی مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کے معاشی خدشات درست ہیں اور حکومت ان مسائل کے بنیادی اسباب کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
اعلی حکام نے واضح کیا ہے کہ پرامن مظاہرین اپنے جائز مطالبات پیش کر رہے ہیں، جبکہ چند شہروں میں محدود تعداد میں منظم عناصر نے عوامی مسائل کو بدامنی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان افراد کی جانب سے توڑ پھوڑ، تخریب کاری اور عوامی نظم میں خلل ڈالنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متاثرہ علاقوں میں حفاظتی اقدامات بڑھا دیے ہیں تاکہ عوامی سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے۔ بعض مقامات پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی بھی خبریں موصول ہوگئی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات معمول کے مطابق اور عوامی تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔
حکام نے زور دیا ہے کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ مکالمے اور مشاورت کے ذریعے عملی حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ معاشی دباؤ کو کم کیا جاسکے، جو زیادہ تر یکطرفہ پابندیوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج عوام کا جائز حق ہے، لیکن کسی بھی قسم کی پرتشدد کارروائی کو سخت اور قانونی اقدامات کے ذریعے روکا جائے گا۔
ایرانی حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوامی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنا شہریوں کے معاشی مسائل کے حل کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور جائز احتجاج کو منظم بدامنی سے الگ رکھنا ریاستی حکمت عملی کا بنیادی اصول ہے۔
حکام کے مطابق کچھ بیرونی میڈیا ادارے چھوٹے اور مقامی مظاہروں کو بڑھا چڑھا کر پورے ملک میں بدامنی کے طور پر دکھا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر علاقوں میں زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔ یہ ذرائع احتجاج کے اصل معاشی مسائل اور حکومت کی کوششوں کو نظرانداز کرتے ہیں اور پرامن مظاہروں کو توڑ پھوڑ اور شرارت کے واقعات کے ساتھ ملا کر پیش کرتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ